شانِ ساہیوال

چودھری مسعود احمد پوسوال — شانِ ساہیوال

چودھری مسعود احمد پوسوال — شانِ ساہیوال

ساہیوال کی تاریخ میں چودھری مسعود احمد پوسوال ایڈووکیٹ کا نام ایک اصول پسند قانون دان، جمہوریت کے علمبردار اور عوامی حقوق کے بے باک وکیل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے وکیل، ممبر پاکستان بار کونسل، سیاسی کارکن، ادبی و سماجی شخصیت اور ساہیوال کی وکلاء برادری کی مؤثر آواز تھے۔

چودھری مسعود احمد پوسوال نے اپریل 1955ء کے بعد ڈکٹیٹر شپ، استحصال اور یک جماعتی نظام کے خلاف قائداعظم کے اصولوں کی روشنی میں جمہوری قوتوں کا ساتھ دیا۔ ساٹھ کک دہائی میں ایوبی آمریت کے خلاف جدوجہد میں وہ صفِ اول کے رہنماؤں میں شامل رہے۔ اسی تحریک کے دوران ساہیوال میں تاریخ میں پہلی بار بارہ وکلاء گرفتار ہوئے، جس سے تحریکِ بحالیٔ جمہوریت کو بڑی تقویت ملی۔

23 مارچ کو “سفرِ قائد سے عہدِ کمٹمنٹ برائے وکلاء” کے عنوان سے ساہیوال سے لاہور تک وکلاء کی تاریخی پیدل مارچ بھی ان کی جدوجہد کا روشن باب ہے۔ اس مارچ میں ساہیوال، لاہور، پشاور، سرگودھا، قصور اور دیگر شہروں کے وکلاء نے شرکت کی۔ اس تحریک نے پاکستان کے وکلاء کا وقار بلند کیا اور پرامن جدوجہد کی ایک مضبوط مثال قائم کی۔

بطور ممبر مغربی پاکستان بار کونسل، چودھری مسعود احمد پوسوال نے وکلاء کے حقوق اور سہولتوں کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے “پاکستان لاء جرنل” کے اجرا کے لیے تحریک شروع کی تاکہ وکلاء کو سستا اور معیاری قانونی مواد آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ اسی طرح انہوں نے وکلاء کی گروپ انشورنس سکیم کی فائل دوبارہ کھلوائی، جو بعد میں وکلاء کے معاشی تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوئی۔

انہوں نے بار کونسل میں بیرونی اضلاع کے وکلاء کی نمائندگی کے لیے بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی تجاویز میں بیرونی اضلاع کے لیے مخصوص نشستیں، ہر ضلع کی بار ایسوسی ایشن کے صدر کو صوبائی بار کونسل کی جنرل باڈی کا ممبر بنانے، اور بار کونسل کے اراکین کو اپنا صدر منتخب کرنے کا اختیار دینے جیسے اہم نکات شامل تھے۔

چودھری مسعود احمد پوسوال مختلف سیاسی، سماجی اور ادبی تنظیموں سے وابستہ رہے۔ جیسا کہ

تحریک استقلال پاکستان کے محرک راہنما،

متحدہ حزبِ اختلاف ضلع ساہیوال کے سیکرٹری،

پاکستان جمہوری پارٹی مغربی پاکستان کے سیکرٹری،

ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ساہیوال کے سیکرٹری،

جمہوری مجلسِ عمل ضلع ساہیوال کے کنوینر،

پاک چائنہ فرینڈشپ سوسائٹی ساہیوال کے صدر،

ساہیوال اکیڈمی کے صدر،

ساہیوال میگزین کے مدیر اور گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین ساہیوال کے صدر!

1961ء میں ہفت روزہ “زندگی” میں “ایک پاکستانی کی ڈائری” کے عنوان سے ان کی تحریری کاوشیں شائع ہوئیں، جن میں سیاسی، معاشی اور معاشرتی حالات کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے مولوی عبدالحق تقریری مقابلے کے گولڈ میڈلسٹ بھی تھے، جو ان کی علمی، فکری اور خطیبانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔

چودھری مسعود احمد پوسوال کی زندگی قانون، جمہوریت، حق گوئی اور ساہیوال سے محبت کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے وکالت کو صرف پیشہ نہیں بلکہ عوامی خدمت اور آئینی جدوجہد کا ذریعہ بنایا۔ اسی لیے ان کا نام ساہیوال کی تاریخ میں عزت، وقار اور جمہوری جدوجہد کی علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔

یقینی طور کہا جاسکتا ہے کہ چودھری صاحب شانِ ساہیوال تھے۔