دلدار پرویز بھٹی — شانِ ساہیوال

مشہور مزاح نگار دلدار پرویز بھٹی
پاکستانی ٹیلی ویژن کی تاریخ میں اگر حاضر جوابی، شائستہ مزاح اور نفیس اندازِ گفتگو کا ذکر ہو تو دلدار پرویز بھٹی کا نام ہمیشہ احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ صرف ایک مقبول ٹی وی میزبان ہی نہیں بلکہ بہترین کالم نگار، مصنف، استاد اور دانشور بھی تھے۔ ان کی شخصیت نے پاکستان میں معیاری تفریح اور علمی گفتگو کو ایک نئی شناخت دی۔
دلدار پرویز بھٹی 30 نومبر 1940 کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے ، لیکن ساہیوال سے ان کا رشتہ بہت گہرا اور دیرپا ہے۔ انہوں نے اپنے تدریسی کیریئر کا آغاز گورنمنٹ کالج ساہیوال سے بطور انگلش لیکچرار کیا۔ یہی وہ دور تھا جب انہوں نے نوجوان نسل کی تربیت کے ساتھ ساتھ اپنی علمی و ادبی شخصیت کو مزید نکھارا۔ ساہیوال کے گلی کوچوں کی خوشبو نے آہستہ آہستہ ان کے ادبی و فنی سخن میں ایک عجیب سی مہک پیدا کردی تھی۔
بعد ازاں انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنی منفرد صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور سب سے پہلے "ٹاکرا" نام سے ایک پروگرام کا اجرا کیا۔ اس کے بعد "میلہ"، "یادش بخیر"، "پنجند"، "آمنا سامنا" اور "دلداریاں" جیسے پروگراموں نے انہیں گھر گھر متعارف کرایا۔ ان کی گفتگو میں شگفتگی، تہذیب، حاضر جوابی اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ کئی دہائیوں تک ناظرین کے پسندیدہ میزبان رہے۔
دلدار پرویز بھٹی نے تدریس، صحافت، ادب اور نشریات کے میدان میں جو خدمات انجام دیں، وہ آج بھی نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی تحریریں اور کتابیں اس بات کی گواہ ہیں کہ مزاح صرف ہنسانے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کی اصلاح کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہو سکتا ہے۔
ان کا تدریسی و تعلیمی کردار اہل ِساہیوال کے لیے قابلِ فخر ہے۔ بھٹی کی کتب میں دلداریاں ، آمنا سامنا اور دلبر دلبر سرفہرست ہیں۔ 1994 میں نیویارک میں شوکت خانم اسپتال کی فنڈریزنگ کے دوران دماغ کی شریان پھٹنے سے ان کاانتقال ہوا۔ بہت جی دار انسان تھے۔ خدا غریق ِ رحمت کرے۔


