ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم — شانِ ساہیوال

ساہیوال کی شان ڈاکٹر الف ۔د ۔نسیم 1920ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اردو شاعری، ادبی تنقید، تصوف، زبان کی تاریخ، شعری اصطلاحات اور اقبالیات جیسے مختلف موضوعات پر کام کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں اردو شاعری کی بدیعی اور معنوی اصطلاحات، اردو فکرِ شرق اقبال کی روشنی میں، اردو کے چیدہ چیدہ شہکار، اردو شاعروں کے حواشی، خاندان شاہ ولی اللہ کا اردو کی ترویج میں حصہ، خاندان میر حسن اور اردو اور عصری تقاضے اور اقبالیات جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ان تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دلچسپی صرف انفرادی شاعروں یا کتابوں تک محدود نہیں تھی۔ وہ اردو زبان کی تاریخی تشکیل،علمی خاندانوں کی ادبی خدمات اور ادب کے فکری پس منظر کو بھی تحقیق کا حصہ بناتے تھے۔
اقبالیات ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم کی علمی زندگی کا ایک بنیادی میدان تھا۔ انہوں نے علامہ اقبال کے افکار کو محض شاعرانہ حسن کے حوالے سے نہیں دیکھا بلکہ اقبال کے پیغام کو مشرقی فکر، اسلامی تہذیب اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی۔ مختلف اقبالیاتی اداروں اور علمی سرگرمیوں سے ان کی وابستگی بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فکرِ اقبال کے سنجیدہ شارح اور مبلغ تھے۔
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم نے تخلیقی ادب میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے شعری کام میں نعت، غزل اور رباعیات شامل ہیں۔ ’’نسیمِ طیبہ‘‘ ان کا نعتیہ مجموعہ تھا، جبکہ ’’نسیمِ غزل‘‘ ان کی غزل گوئی کی نمائندگی کرتا ہے۔ ان کا مجموعۂ رباعیات ’’مجھے ہے حکمِ اذاں‘‘ بھی ان کی فکری اور شعری شخصیت کا اہم حوالہ ہے۔ ’’نسیمِ رحمت‘‘ کے زیرِ طبع ہونے کا ذکر بھی ان کے سوانحی خاکے میں موجود ہے۔
تحقیق و تنقید
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم کا پی ایچ ڈی کا مقالہ ’’اردو شاعری کا تجزیاتی اور فنی جائزہ‘‘ تھا، جبکہ ان کا ایم اے کا مقالہ ’’خوشبوئے حیات و فن‘‘ کے عنوان سے درج ہے۔ ان کی تحقیق و تنقید سے متعلق اہم کتابوں اور تحریروں میں درج ذیل نام شامل ہیں:
اردو شاعری کا تجزیاتی اور فنی جائزہ
خوشبوئے حیات و فن
اردو کی تاریخ میں صوفیا کے مثبت کردار کا حصہ
اردو شاعری کی بدیعی اور معنوی اصطلاحات
اردو فکرِ شرق اقبال کی روشنی میں
اردو کے چیدہ چیدہ شہکار
اردو شاعروں کے حواشی
خوشبوئے درد کے شاعر
خاندان شاہ ولی اللہ کا اردو کی ترویج میں حصہ
خاندان میر حسن اور اردو
اردو کے منظوم ترجمے
عصری تقاضے اور اقبالیات
انہوں نے ولی دکنی، صوفیائے کرام، شاہ ولی اللہ کے خاندان، میر حسن کے خاندان اور اردو زبان کی ترویج میں مختلف علمی و ادبی شخصیات کے کردار پر بھی مضامین لکھے۔
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم نے اقبال کی اردو اور فارسی کتابوں کے مطالب کی تشریح اور ترجمہ کیا۔ ان کے اقبالیاتی کام میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:
نسیمِ کرم — مطالبِ زبورِ عجم کا ترجمہ
نسیمِ ایام — مطالبِ پیامِ مشرق کا ترجمہ
نسیمِ نیاز — مطالبِ ارمغانِ حجاز کا ترجمہ
نسیمِ افکارِ نو — مطالبِ جاوید نامہ کا ترجمہ
نسیمِ گلستانِ عشق — مثنوی پس چہ باید کرد اے اقوامِ شرق کے مطالب کا ترجمہ
موجِ نسیم — شرحِ مطالبِ ضربِ کلیم
شرحِ مطالبِ ارمغانِ حجاز
شرحِ مطالبِ بانگِ درا
شرحِ مطالبِ بالِ جبریل
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم نے نعت، غزل اور رباعی کی اصناف میں شاعری کی۔ ان کے شعری مجموعوں میں یہ نام درج ہیں:
نسیمِ رحمت — زیرِ طبع
نسیمِ طیبہ — مجموعۂ نعت
نسیمِ غزل — مجموعۂ غزلیات
مجھے ہے حکمِ اذاں — مجموعۂ رباعیات
مذہبی اور تاریخی کتب
انہوں نے سیرت، اسلامی تاریخ اور اہم اسلامی شخصیات سے متعلق بھی کتابیں لکھیں۔ ان کی مذہبی و تاریخی تصانیف میں درج ذیل نام شامل ہیں:
نورِ مجسم ﷺ
حیاتِ ابوبکرؓ
سلطنتِ روم و اسلام
امداد اللہ مہاجر مکی کا پیغام
ترجمہ نگاری
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم نے اردو کے علاوہ فارسی ادبیات کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی فارسی شاعری کے مطالب کو اردو میں منتقل کرنے کے ساتھ مختلف فارسی اور عربی موضوعات کے تراجم اور تشریحات بھی مرتب کیں۔ ان کے تراجم کا مقصد مشکل شعری اور فکری مطالب کو اردو قارئین کے لیے قابلِ فہم بنانا تھا۔
ڈاکٹر الف۔ د۔ نسیم کی علمی و ادبی خدمات لامحدود ہیں۔۔2002ء میں آپ کا انتقال ہوا اور میانی صاحب قبرستان لاہور میں مدفون ہیں۔۔ان کے بیٹے ڈاکٹر سعادت سعید بھی مایہ ناز مصنف اور ادیب ہیں۔۔جب کہ دوسرے بیٹے طاہر نسیم بھی ایک کتاب کے مصنف ہیں۔
ڈاکٹر صاحب اپنی ادبی خدمات کی وجہ سے ناصرف شانِ ساہیوال بلکہ شانِ پاکستان کہلانے کے حق دار ہیں۔


