شانِ ساہیوال

ڈاکٹر اسرار احمد — شانِ ساہیوال

ڈاکٹر اسرار احمد — شانِ ساہیوال

ساہیوال کی علمی و فکری روایت میں ایک روشن باب ڈاکٹر اسرار احمدؒ ہیں۔ برصغیر کے اس عظیم مفکر، مفسرِ قرآن، داعی اور خطیب کی زندگی میں ساہیوال کو محض ایک شہر کی حیثیت حاصل نہیں رہی بلکہ یہ ان کی ابتدائی عملی، طبی اور دعوتی زندگی کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ آج جب ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا ذکر دنیا بھر میں قرآن کے ایک معروف داعی کی حیثیت سے ہوتا ہے تو ساہیوال کے لیے یہ امر باعثِ فخر ہے کہ ان کی دعوتِ قرآن کے ابتدائی نقوش اسی شہر کی گلیوں، مسجدوں، حلقہ ہائے درس اور ایک قرآن ہوسٹل سے وابستہ ہیں۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ 26 اپریل 1932ء کو ضلع حصار، مشرقی پنجاب، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد برطانوی حکومت میں سرکاری ملازم تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد خاندان پاکستان منتقل ہوا اور ان کے والد کی ملازمت کے سلسلے میں ساہیوال، جو اس وقت منٹگمری کہلاتا تھا، ان کے خاندان کی رہائش کا اہم مرکز بنا۔ ڈاکٹر صاحب نے اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے 1954ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بظاہر ان کے سامنے ایک کامیاب ڈاکٹر بننے کا روشن مستقبل تھا، لیکن ان کے دل میں قرآن اور اسلامی فکر کی شمع پہلے ہی روشن ہوچکی تھی۔

1954ء میں ایم بی بی ایس مکمل کرنے کے بعد ڈاکٹر اسرار احمدؒ ساہیوال واپس آئے۔ ان کے والدین بھی اسی شہر میں مقیم تھے، چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے ساہیوال میں قیام اختیار کیا اور یہاں اپنی طبی پریکٹس شروع کی۔ شہر میں ان کا مطب تھا جہاں وہ مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ یوں دن کے ایک حصے میں وہ لوگوں کے جسمانی امراض کا علاج کرتے اور دوسری طرف ان کا دل قرآن کے پیغام کو عام کرنے کے لیے بے چین رہتا۔ ایک تحریر میں ڈاکٹر سہیب حسن نے 1961ء کے ساہیوال کے اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے وہاں قرآن ہوسٹل قائم کیا تھا اور مطب سے فارغ ہونے کے بعد قرآن کی سماعت اور درسِ قرآن کا اہتمام کرتے تھے۔

یہی وہ دور تھا جب ساہیوال ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی دعوتِ قرآن کی ابتدائی تجربہ گاہ بن گیا۔ انہوں نے ساہیوال اور گردونواح میں قرآن کے حلقہ ہائے درس قائم کیے۔ ان دروس میں قرآن کو محض تلاوت کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ زندگی بدلنے والی کتاب کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ ان کے حلقوں میں نوجوانوں کی شرکت بڑھتی گئی اور قرآن فہمی کا یہ سلسلہ ساہیوال کی دینی فضا میں ایک نئی روح پیدا کرنے لگا۔ ان کے بارے میں موجود تحقیقی مواد بھی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ 1954ء میں ساہیوال میں سکونت اختیار کرنے کے بعد انہوں نے شہر اور گردونواح میں حلقہ ہائے دروسِ قرآن قائم کیے۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے ساہیوال سے تعلق کا سب سے اہم حوالہ ان کا قائم کردہ "قرآن ہوسٹل" ہے۔ اس کا مقصد ایسے نوجوان طلبہ کو رہائش فراہم کرنا تھا جو مقامی گورنمنٹ کالج میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ رہائش کے ساتھ انہیں قرآن اور عربی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ 1961ء میں شیخ صہیب حسن نے اسی قرآن ہوسٹل میں عربی پڑھانے کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ طلبہ شام کے وقت عربی سیکھتے اور ڈاکٹر اسرار احمدؒ سے قرآن کی کلاس لیتے تھے۔

یہ واقعہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے نزدیک تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ جدید تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان قرآن سے بھی جڑا رہے۔ یہی تصور آگے چل کر ان کی پوری دعوتی فکر کا اہم حصہ بن گیا۔ یوں ساہیوال میں قائم ہونے والا قرآن ہوسٹل محض ایک رہائشی جگہ نہیں تھا بلکہ تعلیم، قرآن اور فکری تربیت کا ایک ابتدائی مرکز تھا۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ نوجوانی ہی سے اسلامی تحریکوں سے وابستہ رہے۔آپ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بنے بعد ازاں جماعت اسلامی میں شامل ہوئے اور 1955ء میں اس کے رکن بنے۔ ساہیوال میں ان کی تنظیمی سرگرمیاں بھی جاری رہیں اور وہ ایک عرصے تک جماعت اسلامی کے مقامی امیر رہے۔ تاہم جماعت کی انتخابی سیاست میں شمولیت کے طریقۂ کار سے ان کے شدید فکری اختلافات پیدا ہوئے اور اپریل 1957ء میں انہوں نے جماعت اسلامی سے علیحدگی اختیار کرلی۔

جماعت سے علیحدگی کے باوجود ان کی دینی جدوجہد رکی نہیں۔ بلکہ ساہیوال ہی میں انہوں نے حلقۂ مطالعۂ قرآن اور اسلامی ہوسٹل کے ذریعے اپنے دعوتی کام کو جاری رکھا۔ یہ مرحلہ ان کی زندگی میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہی وہ دور تھا جب ان کی دعوتی شناخت بتدریج ایک مستقل فکری راستے میں ڈھل رہی تھی۔ ان کا یقین تھا کہ مسلمانوں کی حقیقی اصلاح قرآن کے ساتھ زندہ اور گہرا تعلق پیدا کیے بغیر ممکن نہیں۔

ساہیوال میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ کا قیام ایک ہی مسلسل مدت تک محدود نہیں تھا۔ ان کے اپنے ایک انٹرویو کے مطابق ایم بی بی ایس کے بعد انہوں نے ساہیوال میں قیام کیا، کیونکہ ان کے والدین یہاں مقیم تھے۔ اس کے بعد وہ تقریباً تین سال کراچی میں بھی رہے اور 1965ء میں اسلامیات میں ماسٹرز مکمل کیا۔ اسی عرصے کے بعد ان کی زندگی کا رخ مستقل طور پر لاہور کی طرف ہوگیا۔

دستیاب تحقیقی مواد کے مطابق 1954ء سے 1958ء تک ساہیوال ان کی زندگی کا ایک اہم مرکز رہا، جبکہ بعد کے برسوں میں بھی ان کا ساہیوال سے رابطہ اور یہاں قرآن کے دروس کا سلسلہ جاری رہا۔ 1961ء میں قرآن ہوسٹل کا موجود ہونا اس تعلق کی واضح شہادت ہے۔ ان کے صاحبزادے آصف حمید سے منسوب ایک تاریخی بیان میں بھی یہ ذکر ملتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے 1954ء میں ایم بی بی ایس کے بعد ساہیوال اور گردونواح میں درسِ قرآن شروع کیا اور 1965ء کے آخر میں لاہور منتقل ہونے تک یہ سلسلہ جاری رکھا۔

لاہور منتقل ہونے کے بعد ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے اپنی دعوتی سرگرمیوں کو مزید منظم کیا۔ وہ کئی برس تک طبابت بھی کرتے رہے اور ساتھ ساتھ قرآن کے حلقے قائم کرتے رہے۔ بالآخر فروری 1971ء میں حج کے موقع پر انہوں نے اپنی زندگی کا ایک فیصلہ کن عہد کیا اور طبی پریکٹس کو ترک کرکے اپنی پوری زندگی دین اور دعوتِ قرآن کے لیے وقف کردی۔ 1972ء میں مرکزی انجمن خدام القرآن قائم ہوئی اور 1975ء میں تنظیمِ اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔

اس کے بعد ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی آواز ریڈیو، ٹیلی وژن، مساجد، اجتماعات، کتابوں اور بعد میں جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچی۔ انہوں نے قرآن کے درس کو ایک ایسے انداز میں پیش کیا جس میں علمی استدلال، فکری گہرائی اور خطیبانہ تاثیر نمایاں تھی۔ ان کی درجنوں کتابیں شائع ہوئیں اور ان کے دروس نے خصوصاً تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو قرآن کے مطالعے کی طرف متوجہ کیا۔ ان کی دینی و علمی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1981ء میں ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر اسرار احمدؒ 14 اپریل 2010ء کو لاہور میں وفات پا گئے، مگر ان کی آواز آج بھی ان کے خطابات، دروس، کتابوں اور ریکارڈ شدہ پروگراموں کے ذریعے دنیا بھر میں سنی جاتی ہے۔یہ ساہیوال کی خوش نصیبی اور شان ہے کہ جس شخصیت کی قرآنی آواز بعد میں پاکستان سے نکل کر دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچی، اس آواز کے ابتدائی نقوش اسی شہر کی گلیوں اور علمی حلقوں میں سنائی دیے تھے۔