شانِ ساہیوال

میجر طفیل محمد شہید — شانِ ساہیوال

میجر طفیل محمد شہید — شانِ ساہیوال

عظیم ہیرو میجر طفیل محمد شہید (نشانِ حیدر)

خطئہ ساہیوال کے لیے یہ اعزاز کچھ کم نہ تھا کہ وطنِ عزیز کا دوسرا نشانِ حیدر اسی شہر کے حصے میں آیا تھا اور یہ اعزاز پانے والے کوئی اور نہیں، میجر طفیل محمد شہید تھے۔

میجر طفیل محمد 22 جولائی 1914ء کو ہوشیارپور، بھارتی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے جالندھر کے ڈی اے وی کالج سے تعلیم حاصل کی اور نوجوانی ہی میں فوجی زندگی اختیار کرلی۔ 1932ء میں وہ برطانوی ہندوستانی فوج میں شامل ہوئے اور بعد ازاں فوجی تربیت حاصل کرکے 1943ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان ہجرت کرکے ساہیوال کے قصبے گگو منڈی (جو بعد میں بورے والا میں شامل کردیا گیاا)کے ایک گاؤں میں آکر آباد ہوا۔ انھیں سرکار کی طرف سے گھر اور جائداد بھی ضلع ساہیوال ہی میں دی گئی۔ انہوں نے پاکستان آکر پاک فوج میں اپنی خدمات جاری رکھیں۔ اپنی قابلیت، تجربے اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچے۔

میجر طفیل محمد کی زندگی کا سب سے تاب ناک باب 1958ء میں رقم ہوا، جب وہ مشرقی پاکستان رائفلز میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اگست 1958ء میں لکشمی پور کے علاقے میں بھارتی فوج نے ایک چوکی قائم کرکے پاکستانی علاقے میں پیش قدمی کی۔ اس چوکی کو واپس لینے کی ذمہ داری میجر طفیل محمد اور ان کے جوانوں کو سونپی گئی۔ 7 اگست 1958ء کی رات انہوں نے اپنے جوانوں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کیا اور دشمن کی پوزیشن پر حملے کی قیادت خود کرنے کا فیصلہ کیا۔

دشمن نے مضبوط مورچے قائم کر رکھے تھے اور وہاں سے شدید مزاحمت کی جارہی تھی، لیکن میجر طفیل محمد نے خطرے کی پروا کیے بغیر اپنے جوانوں کی قیادت جاری رکھی۔ وہ سب سے آگے رہ کر دشمن کے مورچوں کی طرف بڑھے۔ معرکے کے دوران انہیں متعدد گولیاں لگیں اور وہ شدید زخمی ہوگئے، مگر ان کے حوصلے میں کوئی کمی نہ آئی۔ زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے جوانوں کی رہنمائی جاری رکھی اور دشمن کی مشین گن کے مورچے کو خاموش کرنے میں کامیاب ہوئے۔ شدید زخمی حالت میں بھی وہ دشمن کے مقابلے سے پیچھے نہیں ہٹے اور اپنی قیادت اور جرأت سے معرکے کا رخ بدل دیا۔

میجر طفیل محمد کی حالت اس وقت انتہائی نازک ہوچکی تھی، لیکن انہوں نے اپنے فرض کی تکمیل تک ہمت نہ ہاری۔ دشمن کی پوزیشن پر کامیاب کارروائی کے بعد پاکستانی فوج اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی۔ تاہم میجر طفیل محمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے 7 اگست 1958ء کو جامِ شہادت نوش کرگئے۔ انہوں نے اپنی جان وطن کی حفاظت کے لیے قربان کردی، لیکن ان کی قربانی نے پاکستان کی تاریخ میں شجاعت اور فرض شناسی کا ایک ایسا باب رقم کیا جو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

میجر طفیل محمد کی بے مثال بہادری کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں بعد از شہادت ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز نشانِ حیدر سے نوازا۔ یہ اعزاز ان کے لیے صرف ایک تمغہ نہیں بلکہ اس غیر معمولی قربانی کا اعتراف تھا جو انہوں نے وطن کی سلامتی کے لیے پیش کی۔

شہید میجر طفیل محمد کی تدفین گگومنڈی میں ہوئی۔ تحصیل بورے والا ضلع وہاڑی میں آج بھی میجر طفیل کے نام کا اسپتال اور سٹیڈیم موجود ہے۔

صرف یہی نہیں، ضلع ساہیوال سے نسبت کی بنا پر تب کی ضلعی انتظامیہ نے ساہیوال میں بھی ایک سڑک کا نام طفیل شہید روڈ رکھا جو آج بھی جناح لائبریری سے بیرون لاری اڈے تک میجر طفیل شہید فلائی اوور اور میجر طفیل شہید روڈ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

میجر طفیل محمد شہید کی شجاعت، قربانی اور ان کا نام آج بھی خطئہ ساہیوال کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں زندہ ہے۔ خدا ان پہ اپنی رحمت کرے۔۔آمین۔۔