شانِ ساہیوال

میاں عبدالحق — شانِ ساہیوال

میاں عبدالحق — شانِ ساہیوال

میاں عبدالحق 1907ء میں قصبہ برج جیوے خان، تحصیل اوکاڑہ، ضلع منٹگمری، موجودہ ساہیوال، میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد میاں نور محمد اپنے علاقے کی باوقار اور بااثر شخصیت تھے، جنہیں ضلع منٹگمری میں “رئیسِ اعظم” کے خطاب سے یاد کیا جاتا تھا۔ میاں عبد الحق کے خاندان نے سیاسی، سماجی اور زرعی میدان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ آپ کے چھوٹے بھائی حاجی میاں بشیر احمد اپنے وقت کے ایک زیرک، باشعور اور جدید سوچ رکھنے والے فارمر تھے، جب کہ سب سے چھوٹے بھائی میاں نذیر احمد بھی عوامی نمائندگی کے میدان میں سرگرم رہے اور پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔

میاں عبد الحق نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں اور گورنمنٹ ہائی اسکول منٹگمری، ساہیوال، سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے ایف سی کالج لاہور میں تعلیم پائی اور اسلامیہ کالج لاہور سے گریجویشن مکمل کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آپ لندن تشریف لے گئے، جہاں آپ نے لنکنز اِن سے قانونی تعلیم حاصل کی اور لندن یونیورسٹی کے اسکول آف اورینٹل اسٹڈیز سے بھی وابستہ رہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کے مسلمان سیاسی، فکری اور آئینی سطح پر اپنے مستقبل کے بارے میں نئی راہیں تلاش کر رہے تھے۔

1930ء کی دہائی میں میاں عبد الحق نے عملی سیاست کا آغاز کیا۔ لندن اور کیمبرج کے علمی و سیاسی ماحول میں آپ چوہدری رحمت علی کے حلقۂ فکر سے وابستہ ہوئے اور پاکستان نیشنل موومنٹ میں فعال کردار ادا کیا۔ یہ تحریک چوہدری رحمت علی کی اُس فکری جدوجہد کا حصہ تھی جس میں برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ مسلم وطن کے تصور کو نمایاں کیا جا رہا تھا۔ “Now or Never” کے نعرے اور نامِ پاکستان کی تشہیر کے حوالے سے میاں عبد الحق کا شمار اُن رفقا میں کیا جاتا ہے جنہوں نے بیرونِ ملک بیٹھ کر اس تصور کو پھیلانے اور مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا۔

میاں عبد الحق نے علامہ محمد اقبال، چوہدری رحمت علی اور اپنے دیگر ہم عصر رفقا کے ساتھ تحریکِ آزادی کے فکری اور سیاسی محاذ پر خدمات انجام دیں۔ وہ اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مسلمانوں کے جداگانہ سیاسی تشخص اور ایک آزاد مسلم ریاست کے مطالبے کو مدلل انداز میں پیش کیا۔ لندن میں قیام کے دوران آپ نے تحریکِ پاکستان کے لیے آواز بلند کی، اس مقصد کے لیے سختیاں برداشت کیں اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔

1937ء میں وطن واپسی کے بعد میاں عبد الحق نے مقامی سطح پر مسلم لیگ کو منظم کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ 1938ء میں انہوں نے ڈسٹرکٹ مسلم لیگ منٹگمری، ساہیوال، کے قیام میں نمایاں کردار ادا کیا اور 1948ء تک اس کے صدر رہے۔ 1946ء کے انتخابات میں آپ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 21 مارچ 1946ء سے 4 جولائی 1947ء تک اسمبلی میں نمائندگی کی۔ سول نافرمانی تحریک 1946ء میں بھی آپ نے بھرپور کردار ادا کیا اور اس جدوجہد میں سب سے پہلے گرفتار ہونے والی شخصیات میں شامل رہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد میاں عبد الحق پہلی پنجاب اسمبلی، 1947ء تا 1949ء، کے رکن رہے اور پارلیمانی سیکرٹری داخلہ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد مہاجرین کی آبادکاری ایک بہت بڑا انسانی اور انتظامی مسئلہ تھا۔ اس موقع پر آپ کو مہاجرین کو جائیدادیں الاٹ کرنے کی اہم ذمہ داری سونپی گئی، جسے آپ نے نہایت سنجیدگی اور ذمہ داری سے نبھایا۔

عوامی خدمت اور مقامی ترقی کے حوالے سے بھی میاں عبد الحق کا کردار نہایت اہم رہا۔ بلدیہ اوکاڑہ نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں 1949ء میں “حق بازار” آپ کے نام سے منسوب کیا۔ ساہیوال میں اسلامیہ ہائی اسکول کے قیام اور فروغ میں بھی آپ کا نمایاں حصہ رہا۔ اسی طرح گاؤں 43/GD میں سکول کے قیام کے حوالے سے بھی آپ کی خدمات کو علاقے کے لوگ آج تک یاد کرتے ہیں۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیم کا مرکز بنا بلکہ پورے علاقے میں ایک مثالی تعلیمی روایت کی بنیاد بھی ثابت ہوا۔

1951ء سے 1955ء تک میاں عبد الحق دوبارہ پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد ازاں 1962ء سے 1965ء تک ویسٹ پاکستان اسمبلی کے رکن اور پارلیمانی سیکرٹری داخلہ رہے۔ 1965ء سے 1969ء تک آپ قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ اس کے علاوہ آپ ڈسٹرکٹ کونسل ساہیوال کے وائس چیئرمین بھی رہے؛ اُس زمانے میں ڈپٹی کمشنر ضلع کونسل کا چیئرمین ہوا کرتا تھا، اس لیے وائس چیئرمین کا منصب عملی طور پر نہایت اہم سمجھا جاتا تھا۔

تحریکِ پاکستان میں شاندار خدمات کے اعتراف میں میاں عبد الحق کو 14 اگست 1964ء کو “ستارہ قائداعظم” سے نوازا گیا۔ بعد از وفات، 1989ء میں انہیں تحریکِ پاکستان گولڈ میڈل بھی عطا کیا گیا۔ آپ 1948ء سے 1968ء تک منٹگمری، ساہیوال، سنٹرل کوآپریٹو بینک کے ڈائریکٹر رہے اور مسلم کوآپریٹو ایسوسی ایشن کے اعزازی سیکرٹری کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ یہ ادارہ ضرورت مند مسلم طلبہ کی مدد کے لیے کام کرتا تھا، جو آپ کی علم دوستی اور سماجی خدمت کا واضح ثبوت ہے۔

میاں عبد الحق کی شخصیت صرف سیاست تک محدود نہیں تھی۔ وہ تعلیم، سماجی بیداری، عوامی فلاح، مہاجرین کی آبادکاری اور مقامی اداروں کی تعمیر و ترقی میں برابر دلچسپی رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ساہیوال اور اوکاڑہ کی تاریخ میں انہیں ایک ممتاز، باوقار اور خدمت گزار شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ علم کے فروغ اور عوامی خدمت کے اسی جذبے کے باعث انہیں محبت اور احترام سے “سر سید آف ساہیوال” بھی کہا جاتا ہے۔

میاں عبد الحق، ستارہ قائداعظم، تحریکِ آزادی کے پاسبان، عوامی نمائندے اور ساہیوال و اوکاڑہ کے لیے باعثِ فخر شخصیت تھے۔ آپ 26 جنوری 1971ء کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے، مگر آپ کی سیاسی جدوجہد، تعلیمی خدمات اور عوامی فلاح کا روشن باب آج بھی خطۂ ساہیوال کی تاریخ میں زندہ ہے