شانِ ساہیوال

میاں غلام محمد عاصم — شانِ ساہیوال

میاں غلام محمد عاصم — شانِ ساہیوال

ماہرِ تعلیم و ماہرِ ریاضیات ہیڈ ماسٹر میاں غلام محمد عاصم صاحب!

کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی پوری زندگی علم وفنون اور نئی نسل کی تعمیر کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ ایسی ہی شخصیات میں ایک نمایاں نام ہیڈ ماسٹر بٹالہ مسلم ہائی اسکول ساہیوال جناب میاں غلام محمد عاصم

کا بھی ہے۔

میاں غلام محمد عاصم یکم جنوری 1907ء کو بٹالہ، مشرقی پنجاب، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد میاں عبداللہ ایک بڑی کاروباری شخصیت تھے اور قالینوں کے وسیع کاروبار سے وابستہ تھے۔ والد کی خواہش تھی کہ غلام محمد عاصم بھی خاندانی کاروبار میں شامل ہوں اور کاروبار کو آگے بڑھائیں، لیکن انہوں نے تجارت کے بجائے علم و تعلیم کا راستہ اختیار کیا۔ یہی فیصلہ ان کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔

انہوں نے خالصہ کالج بٹالہ سے بی ایس سی کی ،بعد ازاں پشاور یونیورسٹی سے ریاضی میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔اس دوران پشاور میں آپ انجمن طلبہ کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔دوسال بعد ہی سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ٹی کی ڈگری حاصل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1930ءکو سری نگر (مقبوضہ کشمیر) کے اسلامیہ ہائی اسکول میں بطور ہیڈ ماسٹر اپنی پہلی ملازمت کا آغاز کیا، جہاں میر واعظ محمد یوسف شاہ آف کشمیر ، سکول کے مینیجر تھے جب کہ شیخ عبداللہ (شیرکشمیر )آپ کے ماتحت بطور استاد ملازمت کرتے رہے،

1938ء میں خرابی صحت کے باعث میاں غلام محمد عاصم کو واپس اپنے شہر بٹالہ آنا پڑا، یہاں آکراپنے والد صاحب کی مدد سے انھوں نےبٹالہ مسلم ہائی اسکول کی بنیاد رکھی اور اس کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے ۔ 1947ء تک آپ اسی اسکول کے ساتھ منسلک ، نونہالان ِ چمن کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے رہے ۔

قیام پاکستان کے بعد میاں غلام محمد عاصم اپنے قریبی دوستوں، مولوی نذیر احمد، جعفر قریشی (والد ڈاکٹر سہیل قریشی، قریشی اسپتال) اور شیخ عبدالغنی کے ہمراہ منٹگمری، ساہیوال (پاکستان) آگئے۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے اپنے سابقہ تعلیمی ادارے کے حوالے سے حکومت سے کلیم کیا۔ چناں چہ ضلع ساہیوال میں سرسید روڈ (موجودہ برینڈ روڈ) پر واقع خالصہ ہائی اسکول ان کے

سپرد کردیا گیا، میاں غلام محمد عاصم نےاسے نئی شناخت یعنی بٹالہ مسلم ہائی اسکول کا نام دیا، اور اپنا تعلیمی و تدریسی مشن جاری رکھا ۔

یوں بٹالہ کی سرزمین سے شروع ہونے والا ان کا تعلیمی سفر ساہیوال میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ میاں غلام محمد عاصم نے اس ادارے کو محض ایک اسکول نہیں سمجھا بلکہ اسے ایک تعلیمی تحریک کی صورت دی۔ ان کی کوشش تھی کہ طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ اخلاق، نظم و ضبط، کردار اور عملی زندگی کے لیے بھی تیار کیا جائے۔

میاں غلام محمد عاصم نے اس گلشن کو اپنے خون پسینے سے سینچا، اسکول کے ساتھ واقع خالی جگہ کو ہاکی گراؤنڈ میں تبدیل کیا،جہاں آج کل پسپ کا آفس ہے۔ 1974ء میں حکومت ِ پاکستان کی ایک فضول پالیسی یعنی نجی اداروں کو قومیانے اور سرکاری تحویل میں لینے کی حرکت نے جہاں بڑی بڑی ملوں اور کارخانوں کا بیڑہ غرق کیا، وہیں بٹالہ ہائی اسکول بھی سرکاری تحویل مین جانے کے بعد گورنمنٹ بٹالہ مسلم ہائی اسکول بن گیا۔

میاں غلام محمد عاصم کی اصل میراث ان کے ہزاروں شاگرد تھے۔ ان کی تربیت اور تعلیم سے فیض پانے والوں میں نامور شخصیات بھی شامل رہیں جیسا کہ پروفیسر ارجمند احمد قریشی اور شیخ محمدعمر(ہیڈ ماسٹر گونمنٹ ہائی اسکول)،شیخ محمد یونس اور ڈاکٹر سہیل احمد قریشی سمیت بیسیوں نامور نام شامل ہیں۔

میاں صاحب کی اولاد نے بھی آگے ان کا مشن جاری و ساری رکھا ان کے چاربیٹے اور دو بیٹیاں تھیں: بیٹوں میں ڈاکٹر میاں محمد خالد، میاں محمد طارق، پروفیسر میاں محمد قاسم سلیم اور میاں محمد اقبال (جو کہ آخر دم تک بٹالہ اسکول سے وابستہ رہے اور والد کے مشن کو آگے بڑھاتے رہے)

مختصر یہ کہ میاں غلام محمد عاصم نے اپنے والد کے وسیع کاروبار کو چھوڑ کر تعلیم کا راستہ اختیار کیا تھا۔ انہوں نے دولت کے بجائے علم کو اپنی زندگی کا سرمایہ بنایا۔ بٹالہ میں قائم کیا گیا ان کا تعلیمی مشن تقسیمِ ہند کے بعد ساہیوال منتقل ہوا اور بٹالہ مسلم ہائی اسکول کی صورت میں ایک نئی زندگی حاصل کر گیا۔

اپریل کی 14 تاریخ کو 1972ء میں یہ عظیم شخصیت ہمیشہ کے لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئی۔ آج بھی اس گوہر نایاب کو ساہیوال کی دھرتی بڑی شان اور آن بان سے یاد کرتی ہے اور ملکوں ملکوں پھیلے ان کے شاگرد ان کی محنتوں اور قربانیوں کی واضح دلیل ہیں ۔