مصطفىٰ زیدی — شانِ ساہیوال

سید مصطفیٰ حسن زیدی المعروف مصطفیٰ زیدی، جن کا پہلا قلمی نام ’’تیغ الٰہ آبادی‘‘ تھا، ایک طرف اردو کے معروف شاعر، صاحبِ اسلوب ادیب اور حساس انسان تھے تو دوسری طرف پاکستان کی اعلیٰ سول سروس سے وابستہ ایک باصلاحیت افسر بھی تھے۔ ان کی زندگی کا ایک اہم باب ساہیوال سے جڑا ہوا ہے، جہاں انہوں نے بطور ڈپٹی کمشنر خدمات انجام دیں اور اپنی علم دوستی، ادبی ذوق اور انتظامی صلاحیتوں کے نقوش چھوڑے۔
مصطفیٰ زیدی 10 اکتوبر 1930ء کو الٰہ آباد، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں ایک علمی اور متمول سادات خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سید لخت حسین زیدی پولیس کے اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ مصطفیٰ زیدی نے بچپن ہی سے غیر معمولی ذہانت اور حساس طبیعت کا مظاہرہ کیا۔ انہیں مطالعے اور ادب سے گہری دلچسپی تھی اور کم عمری ہی میں شعر کہنے لگے۔ ابتدا میں انہوں نے ’’تیغ الٰہ آبادی‘‘ کے قلمی نام سے شاعری کی۔
انہوں نے الٰہ آباد یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ لاہور آگئے اور یہاں علمی و ادبی سرگرمیوں کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ زندگی کو بھی آگے بڑھایا۔ 1952ء میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے انگریزی کی ڈگری حاصل کی۔
مصطفیٰ زیدی نے 1954ء میں پاکستان کی اعلیٰ سول سروس، یعنی سی ایس پی، کا مقابلے کا امتحان نمایاں نمبروں سے پاس کیا۔ تربیت کے لیے انگلینڈ بھیجے گئے اور واپسی پر ملک کے مختلف اہم علاقوں میں انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ لاہور، نوجاب شاہ، جہلم اور ساہیوال سمیت مختلف اضلاع میں انہوں نے ڈپٹی کمشنر اور دیگر اہم انتظامی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ ان کی صلاحیتوں اور بہترین انتظامی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں تمغۂ قائداعظم سے بھی نوازا۔
ساہیوال، جسے اس زمانے میں منٹگمری کہا جاتا تھا، مصطفیٰ زیدی کی عملی زندگی کا ایک اہم پڑاؤ رہا۔ وہ 1960ء کی دہائی کے وسط میں، تقریباً 1963ء سے 1965ء کے دوران، ساہیوال کے ڈپٹی کمشنر رہے۔ ان کے دورِ تعیناتی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ انتظامی امور کے ساتھ ساتھ شہر کی علمی اور تہذیبی زندگی میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ روایتی افسر شاہی کے ماحول میں مصطفیٰ زیدی کی علم دوستی ایک منفرد وصف تھی۔ ساہیوال میں انہوں نے ایک یونین کونسل کی عمارت میں پبلک لائبریری قائم کروانے میں کردار ادا کیا۔
مصطفیٰ زیدی نے زندگی کے صرف چالیس برس پائے، لیکن اس مختصر مدت میں اردو شاعری کے دامن میں ایک قابلِ ذکر سرمایہ چھوڑ گئے۔
ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’زنجیریں‘‘ 1949ء میں شائع ہوا، جو انہوں نے ’’تیغ الٰہ آبادی‘‘ کے قلمی نام سے پیش کیا تھا۔ اس کے بعد ’’روشنی‘‘ 1950ء، ’’شہرِ آذر‘‘ 1958ء، ’’موج مری صدف صدف‘‘ 1960ء، ’’گریباں‘‘ 1964ء، ’’قبائے ساز‘‘ 1967ء اور ’’کوہِ ندا‘‘ 1971ء میں شائع ہوئے۔ ’’موج مری صدف صدف‘‘ کا دیباچہ معروف شاعر فراق گورکھپوری نے لکھا تھا، جبکہ ’’کوہِ ندا‘‘ ان کی وفات کے بعد منظرِ عام پر آیا۔ بعد ازاں ان کی شاعری کو ’’کلیاتِ مصطفیٰ زیدی‘‘ کی صورت میں یکجا کیا گیا۔
مصطفیٰ زیدی کی زندگی کا آخری دور شدید ذہنی اور معاشی اضطراب سے عبارت تھا۔ دسمبر 1969ء میں جنرل یحییٰ خان کے مارشل لا کے زمانے میں انتظامی تطہیر کے نام پر اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی گئی اور مصطفیٰ زیدی بھی اس عمل کی زد میں آئے۔ انہیں پہلے معطل کیا گیا اور پھر مئی 1970ء میں سرکاری ملازمت سے باقاعدہ فارغ کردیا گیا۔
مصطفیٰ زیدی کی زندگی کا سب سے پراسرار اور افسوس ناک باب ان کی موت ہے۔ اپنی چالیسویں سالگرہ کے صرف دو دن بعد، 12 اکتوبر 1970ء کو وہ کراچی کے ایک بنگلے میں مردہ پائے گئے۔
مصطفیٰ زیدی کی زندگی کا ساہیوال سے تعلق اگرچہ چند برسوں تک محدود تھا، لیکن یہ تعلق محض ایک سرکاری تعیناتی کا نام نہیں۔ ایک شاعر کا شہر کے انتظامی منصب پر فائز ہونا اور پھر علم و مطالعے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کرنا ساہیوال کی تہذیبی تاریخ کا قابلِ ذکر باب ہے۔


