پیر ابو النصر مولانا منظور احمد شاہ

ساہیوال ٹائمز کے سلسلہ "شانِ ساہیوال" میں آج کی شخصیت ہیں پیر ابو النصر مولانا منظور احمد شاہ جو کہ برصغیر پاک و ہند کی اُن ممتاز روحانی و علمی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی اشاعت اور عوام کی روحانی تربیت کے لیے وقف کیے رکھی۔
وہ ایک جید عالمِ دین، مفسرِ قرآن، صوفی منش مقرر، مصنف اور عظیم دینی رہنما تھے۔ ساہیوال اور گرد و نواح میں انہیں “بابا جی سرکار” کے نام سے بھی بے حد عقیدت و احترام کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔
ان کی شخصیت علم، عمل، تقویٰ اور عشقِ رسول ﷺ کا حسین امتزاج تھی۔ انہوں نے نہ صرف دینی علوم کی تدریس کی بلکہ لاکھوں افراد کی اصلاح و تربیت بھی کی۔ ان کے بیانات میں قرآن و حدیث کی روشنی، محبتِ رسول ﷺ اور اخلاقی اصلاح کا پہلو نمایاں ہوتا تھا۔ عوام الناس ان کی گفتگو سے بے حد متاثر ہوتے اور روحانی سکون حاصل کرتے تھے۔
ابو النصر منظور احمد شاہ کا تعلق ایک مذہبی اور روحانی گھرانے سے تھا۔ بچپن ہی سے دینی علوم سے شغف رکھتے تھے۔ انہوں نے قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر اور تصوف کے علوم میں مہارت حاصل کی۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی زندگی درس و تدریس، تبلیغِ اسلام اور روحانی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ ان کی علمی گہرائی اور اندازِ بیان نے انہیں ملک بھر میں ممتاز مقام عطا کیا۔
انہوں نے ساہیوال میں معروف دینی ادارہ “جامعہ فریدیہ” قائم کیا، جو بعد ازاں جنوبی پنجاب کا ایک اہم دینی و تعلیمی مرکز بن گیا۔ اس ادارے سے ہزاروں طلبہ نے دینی تعلیم حاصل کی اور ملک و بیرونِ ملک دینِ اسلام کی خدمت انجام دی۔ جامعہ فریدیہ صرف ایک مدرسہ نہیں بلکہ ایک روحانی و فکری مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔
ابو النصر منظور احمد شاہ نے تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ “تفسیر نور القرآن” سمیت سو سے زائد کتابوں کے مصنف تھے۔ ان کی تحریروں میں قرآن فہمی، اصلاحِ نفس، سیرتِ نبوی ﷺ، عقائد اور روحانیت جیسے موضوعات شامل تھے۔ ان کی کتب آج بھی دینی حلقوں میں شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔
وہ ایک صاحبِ طریقت بزرگ تھے اور ہزاروں افراد ان سے روحانی وابستگی رکھتے تھے۔ ان کی خانقاہ میں ذکر و اذکار، اصلاحی نشستیں اور دینی اجتماعات منعقد ہوتے رہتے تھے۔ ان کے اخلاق، عاجزی اور محبت بھرے انداز نے عوام کے دلوں میں ان کے لیے بے پناہ عقیدت پیدا کی۔ لوگ انہیں ایک ایسے بزرگ کے طور پر جانتے تھے جو دین کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کو بھی اہمیت دیتے تھے۔
2019 میں ان کے انتقال کی خبر نے ساہیوال سمیت پورے ملک کے دینی حلقوں کو غمزدہ کر دیا۔ ان کی نمازِ جنازہ میں علما، مشائخ، سیاسی و سماجی شخصیات اور ہزاروں عقیدت مندوں نے شرکت کی۔ ان کے انتقال کو دینی و روحانی دنیا کا بڑا نقصان قرار دیا گیا۔
ابو النصر مولانا منظور احمد شاہ نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ محبت، اخلاق، خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کا پیغام بھی ہے۔ ان کی تعلیمات آج بھی جامعہ فریدیہ، ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں کے ذریعے زندہ ہیں۔ ساہیوال کی علمی و روحانی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ لیا جاتا رہے گا۔



