حضرت سید مسعود حیدر شاہ بخاری — شانِ ساہیوال

پروفیسر سید مسعود حیدر شاہ بخاری نقشبندی مجددی کا شمار ساہیوال کی ان ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی علم، تدریس، تصنیف اور دینی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ آپ ایک قابل استاد، مؤرخ، مصنف اور روحانی رہنما کی حیثیت سے طلبہ، اساتذہ اور اہلِ علم میں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
آپ نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ہسٹری کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اپنی عملی زندگی کا آغاز گورنمنٹ مرے کالج سیالکوٹ میں بطور استاد کیا۔ بعد ازاں آپ نے گورنمنٹ ڈگری کالج میانوالی اور گورنمنٹ ڈگری کالج رحیم یار خان میں تدریسی فرائض انجام دیے۔
1966ء میں آپ گورنمنٹ کالج ساہیوال میں بطور استادِ تاریخ تعینات ہوئے۔ یہاں آپ نے تقریباً بیس سال تک علم کی روشنی پھیلائی اور طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی شفقت، محبت، خوش اخلاقی اور دل نشیں اندازِ تدریس کی وجہ سے طلبہ اور اساتذہ آپ سے بے حد محبت کرتے تھے۔
گورنمنٹ کالج ساہیوال سے آپ کا تعلق محض ملازمت تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ ادارہ آپ کے لیے ایک علمی روحانی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ نے یہاں تاریخ کے استاد کی حیثیت سے اپنی قابلیت، دانش اور کردار کے ایسے نقوش چھوڑے جو آج بھی آپ کے شاگردوں کے دلوں میں محفوظ ہیں۔
پروفیسر سید مسعود حیدر شاہ بخاری نے تدریس کے ساتھ ساتھ تصنیف و تحقیق کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کی اہم تصانیف میں:
ضیاء التصوف
فیضانِ اولیاء
تاریخ پاک و ہند — مغلیہ دور
تاریخِ اسلام — اندلس
تاریخِ اسلام — عہدِ بنو امیہ
تاریخِ اسلام — عہدِ بنو عباس
شامل ہیں۔ یہ کتب تاریخ، اسلام اور تصوف کے موضوعات پر آپ کے وسیع مطالعے اور تحقیقی ذوق کی عکاسی کرتی ہیں۔
ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آپ نے علمی اور دینی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی۔اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا رہا۔ اسی مقصد کے تحت آستانہ عالیہ پر گزشتہ 33 سال سے محافلِ میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ، وعظ و نصیحت اور دینی دروس کا باقاعدگی سے اہتمام کیا جا رہا ہے۔
آپ نے فرید ٹاؤن سے ملحقہ آبادی موکی بلاک، مدینہ کالونی ساہیوال کے قریب چار کنال اراضی پر جامع مسجد سیدنا حمزہؓ اور مدرسہ افضل العلوم تعمیر کروایا۔ یہاں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کی تدریس کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا تاکہ نئی نسل کو علم، کردار اور اخلاق سے آراستہ کیا جا سکے۔
آپ کی علمی خدمات میں کتاب ضیاء التصوف کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ آپ نے 95 سال کی عمر میں بھی مطالعے، تحقیق اور تحریر کا سلسلہ جاری رکھا اور شب و روز محنت کرکے اس کتاب کو مکمل کیا۔ اس تصنیف میں تصوف کے اہم موضوعات اور اس سے متعلق عام غلط فہمیوں کو سادہ اور عام فہم انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
پروفیسر سید مسعود حیدر شاہ بخاری کی زندگی علم سے محبت، استاد کی عظمت، دینی خدمت اور انسان دوستی کی روشن مثال ہے۔ ان کی تدریسی، تصنیفی اور روحانی خدمات ساہیوال کے علمی و ثقافتی ورثے کا قیمتی حصہ ہیں۔
ایسی شخصیات کسی بھی شہر کا حقیقی سرمایہ اور آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ تقلید مثال ہوتی ہیں۔


